نئی دہلی،31؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)ملک میں تیسری لہر کے بارے میں خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تیسری لہر ستمبر یا اکتوبر میں آ سکتی ہے۔ اس کے پیش نظر ریاستوں نے اپنی سطح پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ خاص طور پر مہاراشٹر میں بستروں اور آکسیجن ری فلنگ پلانٹس کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کیرلا میں انفیکشن کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر ایک صحت کے عہدیدار نے لاک ڈاؤن لگانے کا مشورہ دیا ہے۔مرکزی حکومت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کیرلا میں انفیکشن کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین دن پہلے کیرلا میں ٹسٹ مثبت شرح 15 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 19 فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انفیکشن کے پھیلاؤ کی چین ٹوٹ جائے گی جیسا کہ دہلی میں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کیرلا میں لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو پندرہ دن کے اندر حالات بہتر ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ تہوار آرہے ہیں۔ اس کے پیش نظر کنٹینمنٹ زون بنانے اور لاک ڈاؤن لگانے کا کام کیرلا میں سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ یہ تجویز ریاست کو بھیجی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کیرلا کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے پیر سے ہفتہ کی رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک رات کے کرفیو کا اعلان کیا۔ مہاراشٹر کے بارے میں بات کریں تو بی ایم سی کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر سریش کاکانی نے کہا کہ تیسری لہر کے لئے 30000 بستر تیار کئے جارہے ہیں۔